ابنا: بنگلادیش کے حکومت مخالفین کی جانب سے حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے کی دھمکی کے بعد، حکومت نے بڑے شہروں ميں فوج تعینات کردی ہے۔فرانس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حکومت بنگلادیش کے مخالفین کی جانب سے، وزیر اعظم کو اقتدار سے برطرف کرنے کے سلسلے میں آج ملک بھر میں ہونے والے وسیع مظاہروں کو روکنے کے لئے بڑے شہروں میں فوج تعینات کردی گئی ۔ بنگلادیش ميں کشیدگی اس وقت عروج کو پہنچ گئی جب اس ملک کی وزیر اعظم حسینہ واجد نے بنگلادیش کی حزب اختلاف کی سب سے اہم جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی جانب سے 24 اکتوبر تک ان کے مطالبے کو تسلیم کرنے کی مہلت مسترد کر دی اور اپنے سرگرم کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ مخالفین کے ساتھ مقابلے کے لئے سڑکوں پر اتر آئیں۔بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی رہنما خالدہ ضیاء نے کہا ہے کہ جمعے کے دن سے اس ملک کی حکومت غیر قانونی ہے اور اس کی بنیاد پر پارلمانی انتخابات کے انعقاد سے تین ماہ پہلے تک ایک عبوری حکومت برسر اقتدار آئے ۔دوسری جانب فوج کی فائرنگ میں پانچ حکومت مخالف ہلاک ہوگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے فوج نے طاقت کا استعمال کیا جس میں پانچ افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ مشتعل مظاہرین نے اسی طرح کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔
اطلاعات کے مطابق حزب اختلاف کے دسیوں ہزار کارکنوں نے گذشتہ روز ڈھاکہ میں وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے استعفی اور عبوری حکومت کے زیر نظر انتخابات کرانے کے مطالبے لے کر احتجاج کیا تھا۔ حزب اختلاف نے حکومت کو استعفی پرمجبور کرنے کے لئے ملک گير احتجاج شروع کیا ہے۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد استعفی دیں اور عبوری حکومت کے زیر نگرانی انتخابات کرائيں۔بنگلادیش میں آئندہ برس عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ بنگلادیش کی سابق وزیر اعظم اور بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی کی سربراہ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انتخابات کے بائيکاٹ کرنے پر تاکید کی ۔ انہوں نے کہا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کی حکومت میں انتخابات نہیں ہوسکتے اور ملک میں ایک پارٹی کے حق میں انتخابات ہونے کا موقع نہيں دیا جائے گا۔
.......
/169